خصوصی رپورٹس    

پاکستان بارڈر پر بھارتی جارحیت کا جواب دے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم مودی کا بیگ گراﺅنڈ ایک جنگی جنونی جیسا ہے۔ برسراقتدار آنے سے قبل بھی بابری مسجد کی شہادت اور گجرات فسادات میں پیش پیش رہے۔ اپنی الیکشن کمپین میں ایسے پوسٹرز چھپوائے جن میں موصوف ایک ننگی تلوار لیکر کھڑے ہیں جس کے سروں سے خون اچھل رہا تھا۔ ان خیالات کا اظہار معروف تجزیہ کار ضیاشاہد نے چینل ۵کے تبصروں تجزیوں کے مقبول ٹاک شو ”ضیاشاہد کے ساتھ “ میں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں بھارتی فائرنگ سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق 10 شہریوں کی شہادت ہوئی جو ایک بڑا المناک واقعہ ہے۔ جنرل راحیل شریف فوری طور پر سی ایم ایچ پہنچے اور زخمیوں کی عیادت کی۔ لگتا ہے بھارت چھوٹی سرحدی جھڑپوں سے آگے نکل کر بڑی جھڑپوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جنگ جیسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ضیاشاہد نے کہا کہ ہم توپہلے ہی حالت جنگ میںہیں۔ فوج وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب جبکہ کراچی میں رینجرز ملک دشمن عناصر کےخلاف بھرپور کارروائی کر رہے ہیں۔ کراچی میں پی پی کےخلاف بھی ایکشن جاری ہے۔ دشمن کےلئے ان حالات میں بہترین موقع ہے کہ وہ ا پنی چھیڑچھاڑ کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیالکوٹ واقعہ پر وزیراعظم اور وزارت خارجہ کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ سرحدی حالات سب کے سامنے ہیں۔ خدانخواستہ زخمیوں میں سے اگر مزید شہادتیں ہو گئیں تو یہ ایک بہت بڑا واقعہ بن جائیگا۔ اس بارے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے ذمہ داران کی جوابدہی ضروری ہے۔ کیا ان حالات میں بھی بھارت سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ ایک جانب وہ ہمارے بیگناہ شہریوں، کاشتکاروں کو گولیوں سے بھون رہا ہے اور دوسری جانب مذاکرات کا راگ الاپ رہا ہے۔ ہمیں امریکہ سمیت دیگر بڑی طاقتوں پر واضح کرنا ہوگا کہ ہم یہ طوفان بدتمیزی برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ ہم مشرف دور میں بھی بھارت کے نیچے لگے رہے۔ وزارت خارجہ کا رول کمزور رہا ۔ اس کے بعد آصف علی زرداری کے دور صدارت میں بھی حکمرانوں کی بھارت بارے پالیسی مدافعانہ رہی۔ امریکہ چاہیے ڈرون کی صورت میں یا براہ راست زمینی کارروائی اسامہ بن لادن آپریشن کی صورت میںکرے کسی نے اعتراض نہ کیا۔ اس دوران بھارت کے ساتھ بھی سرحدی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد میاں نواز شریف کی وزارت عظمی کا دور شروع ہوا۔ ہمارے وزیراعظم نریندرمودی کی تخت نشینی کی تقریب میں بھی شریک ہوئے۔ جتنا ہم جھکتے رہے بھارت اپنی جارحیت بڑھاتا رہا۔ وہ آج تک یہی سمجھتا چلا آ رہا ہے کہ ہم اندرونی خلفشار کا شکار ہیں۔ مگر اب حالات یکسر تبدیل ہو گئے ہیں۔ بلوچستان میں ناراض بلوچی بھائیوں نے ہتھیار پھینک دئیے اور حکومتی دھارے میںشریک ہوگئے۔ اب بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال بہت بہتر ہے۔ ہمیں بھارت سے اصل خطرہ بھی بلوچستان کے حوالے سے تھا جس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ضیاشاہد نے کہا کہ عمران خان کے دھرنے کے دوران کئی روز تک پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا رہا۔ مگر اب حکومت کو سنجیدگی دکھانی ہوگی کہ پارلیمنٹ کے ا جلاس میں ڈیبیٹ کرائی جائے کہ بھارت کی ساتھ کیسے روابط رکھنے ہوں گے۔ اگر ہماری سیاسی قیادتوں نے غلطیوں کا ازالہ نہ کیا تو اصلی قیادت عوام بھی تسلیم کر لیں گے کہ فوج ہی ہماری قیادت کرے۔ اگر جمہوریت کامیاب کرنی ہے تو حکمرانوں کو چاہیے کہ عوام کی عکاسی اپنی زبان سے کریں۔ جنرل راحیل شریف قیادت اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ کسی دوسری جانب سے کوئی آواز اٹھتی دکھائی نہیں دیتی۔ اگر عوام کے جذبات واحساسات کی عکاسی حکمرانوں کی جانب سے نہ کی گئی تو واقعتا ان کا بور یا بستر لپیٹا جا سکتا ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ مجھے افسوس ہوا جب آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے لوگ پکڑے گئے تو پی پی کو کوئی دقت نہ ہوئی۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا کہ رینجرز اچھا کام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر عاصم آصف زرداری کے قریبی دوست ہیں ان کی گرفتاری کے بعد اس طرح کے بیانات دینا کہ اگر آصف زرداری پر ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ ہو گی۔ ضیا شاہد نے کہا کہ بھٹی کیس اور کس طرح کی جنگ ہوگی؟ کیا کر لیں گے آپ؟ میں وفاقی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آئین میں گنجائش کے باوجود سندھ حکومت نہ توڑی۔ لگتا ہے پیپلزپارٹی فیصلہ کر چکی ہے کہ وہاں اپنی ٹیم تبدیل نہیں کرنی ہے۔ ہماری اور عوام کی خواہش ہے کہ جہاں جہاں پی پی کو مینڈیٹ ملا ہے وہاں وہاں اس کا احترام کیا جائے۔ سندھ میں پی پی حکومت چلنی چاہیے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ قمر زمان کائرہ کو بھی تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ کرپشن کے الزامات مظفر ٹپی پر ہیں۔ اس وقت ملک سے باہر فرار ہیں۔ کراچی کے لوگوں کے ان بارے یہ بھی الزامات ہیں کہ ہندو سیٹھ کی عمارت کا قبضہ مانگا جو ہندو بیٹھ نے دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد آل آف سڈن دنیا نے دیکھا کہ اسی سیٹھ کو ایک سڑک پر سرعام گولیاں مار دی گیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر الزامات بارے مظفر ٹپی خود دفاع کریں تو بہت بہتر ہے۔ ملک میں عدالتیں موجود ہیں۔ اپنا کیس بہتر طور سے پیش کر کے الزامات سے بری الذمہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اگر میاں منشاءکے خلاف بھی الزامات کے ثبوت ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ وہ خود آگے بڑھ کر کارروائی کرے۔ میں پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کی اس بات سے متفق ہوں کہ انصاف سب کیلئے ہونا چاہیے۔ لیگی ارکان کے گرینڈ الائنس بارے سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ اگر ذوالفقار کھوسہ سمیت چند لوگوں کا دھڑا الائنس بنا بھی لیتا ہے تو اس کی صدارت پر پھڈا پڑنے کا امکان ہے۔ اس الائنس میں عوامی لیگ، آل پاکستان مسلم لیگ، مسلم لیگ فنکنشل (پگاڑا گروپ) اور غوث علی شاہ، سردار ذوالفقار کھوسہ جیسے لوگ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اس سے قبل چودھری شجاعت نے پارٹی خالی کرا دی مگر کوشش یہی کہ صدر وہی رہیں۔ ایک سوال پر ضیا شاہد نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ پرویز رشید اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر ارکان عمران خان کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنا وقت مثبت طریقے سے استعمال کریں۔ عمران خان کے دشمن الیکشن کمیشن کے 4ارکان اور ان 4ارکان کے دشمن عمران خان ہیں۔ اگر عمران خان نے دوبارہ الیکشن اسی الیکشن کمیشن کے تحت لڑنا ہے تو ہار جائیں گے۔ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) راحت لطیف نے لائیو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ حکومت ایسی پالیسی اختیار کرے جس سے بھارت کو پتہ چل جائے کہ ہم اپنے دفاع سے غافل ہرگز نہیں۔ اگر ہندوستان کو معلوم ہوجائے کہ ہم نے جینونی سٹارٹ لے لیا ہے تو وہ ایل او سی کیخلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ سب سے بڑا دہشت گرد وہ خود ہے۔ ہمیں دفاعی حربے نہیں اختیار کرنے چاہئیں۔ ہماری آرمی کوئی کچی پکی آرمی نہیں ہندوستان ہماری فوج سے بھی نالاں ہے۔ وزیراعظم کا حالیہ بیان خوش آئند ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں ایک بڑا پیغام ہے۔ پاکستان کیخلاف ملک دشمن قوتیں افراتفری چاہتی ہیں۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ کراچی اور دیگر علاقوں میں آپریشن سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ بلوچستان اور کراچی میں امن پیدا ہورہا ہے ہمیں یو این او کو بھی بھارتی اصلی روپ دکھانا ہوگا۔ فیصل آباد سے لائیو کالر جاوید نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ کیا ہم بھارت سے کمزور ہیں؟ ایک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود وہ کیوں پاکستان کیخلاف بار بار سرحدی دراندازیاں کرتا ہے۔ ضیاشاہد نے کہا کہ عوام ہرگز کمزور نہیں بھارت ہمارے اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔ لاہور سے لائیو کالر خالد نے بتایا کہ سیالکوٹ واقعہ بارے ہمارے وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ کھل کر بھارت سے دو ٹوک بات کریں۔ مودی تو ہمیں دبئی میں بیٹھ کر بھی للکارتا ہے جبکہ ہمارے وزیراعظم سے تو بات ہی نہیں ہوتی ہے۔ ضیاشاہد نے جواب دیا کہ اس وقت پاکستانی فوج مختلف ملک دشمن عناصر کیخلاف برسرپیکار ہے۔ اگر جمہوری نظام کی آواز کسی اور نے بننا ہے تو حکومت بھی کسی اور کی آسکتی ہے۔ گوجرانوالہ سے لائیو کالر پرویز خان نے پوچھا کہ جنرل راحیل شریف تو ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں مگر ایک جمہوری ملک کے وزیراعظم اس وقت کہاں ہیں؟ ضیاشاہد نے جواب دیا کہ سیاسی قیادتوںاور حکومتی پارٹی کو لوگوں کے احساسات کا علم ہونا چاہئے حکومت ثابت قدمی سے عوامی احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرے۔

Mazeed News
پاکستان بارڈر پر بھارتی جارحیت کا جواب دے

قومی خبریں    

بین الاقوامی خبریں    

سپورٹس    

شوبز    

دلچسپ و عجیب    

صنعت و تجارت