افغان کرکٹر شاپورزدران فائرنگ حملے میں بال بال بچ گئے
کابل(آئی این پی) افغانستان کے فاسٹ باو¿لر شاہ پور زدران پر کابل میں مسلح افراد نے حملہ کیا لیکن خوش قسمتی سے اس حادثے سے بچنے میں کامیاب رہے۔ شاہ پور زدران بھائی کےساتھ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ اور واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔فاسٹ باو¿لر عالمی سطح پر افغانستان کے کامیاب کرکٹرز میں سے ایک شمار کیے جاتے ہیں اور نیوزی لینڈ میں 2015 ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں انہوں نے انہوں نے اختتامی اوورز میں فتح گر ہٹ لگا کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرا دیا تھا جو عالمی ایونٹ میں ان کی پہلی کامیابی تھی۔حملے کے عزائم واضح نہ ہو سکے جبکہ ابھی تک کسی نے اس کی ذمے داری بھی قبول نہیں کی لیکن اس سے 2009 میں پاکستان میں سری لنکن ٹیم کی بس پر حملے کی یاد تازہ ہو گئی جس کے بعد پاکستان میں عالمی کرکٹ کا انعقاد نہ ہو سکا۔خاما پریس کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ شاہپور زدران پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہو بلکہ اس سے قبل بھی انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی جا چکی ہے۔حملے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اعتماد سے بھرپور فاسٹ باو¿لر نے کہا کہ جنگ زدہ ملک افغانستان میں کرکٹ کو کوئی مسئلہ نہیں اور حتیٰ کہ طالبان بھی اس کے حق میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان کو کرکٹ پسند ہے اور میں ایک کرکٹر ہوں، طالبان کرکٹر پر حملے نہیں کرتے۔شاہ پور اور ان کے بھائی دونوں ہی حملے میں محفوظ رہے اور انہیں کوئی خراش تک نہیں آئی۔ابھی تک افغان کرکٹر ہر حملے کے حوالے سے ان کے بورڈ نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا