تھانیدار کا شادی سکینڈل, نکاح نامہ مانگا تو تھانیداری جاگ اُٹھی
لاہور (خصوصی رپورٹ) پولیس چوکی ریواز گارڈن کے سابق انچارج سب انسپکٹر انیس محمودنے پہلے سبز باغ دکھائے، نکاح نامہ بھی رجسٹرڈ نہیں کروایا، نکاح نامہ مانگنے کی پاداش اس کے باپ کو اٹھا کرغائب کردیا ہے جبکہ بھائیوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کر دیا گیا ہے۔ پولیس پیٹی بھائی سے مل چکی ہے۔ متاثرہ بیوی اپنے پولیس افسر شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرانے سیشن عدالت پہنچ گئی۔ فاضل جج نے تھانہ ساندہ پولیس نے رپورٹ طلب کی جو پیش نہ کی گئی جس پر عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج مشتاق عدنان کی عدالت میں ریواز گارڈن کی رہائشی ارم ناز نے اپنے شوہر سب انسپکٹر انیس محمود کے خلاف اندراج مقدمے کی درخواست دائر کرتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ وہ 2015ءمیں ایک رپٹ لکھوانے اس کے پاس چوکی ریواز گارڈن گئی تھی‘ اس وقت وہ وہاں انچارج تھا جس نے اس سے دوستی کی اور اس کو سبز باغ دکھا کر اس کے ساتھ شادی کرلی۔ شادی باقاعدہ اس کی فیملی کے تمام افراد کی موجودگی میں ہوئی لیکن شادی کے بعد اس نے نکاح نامہ گھر سے غائب کردیا۔ اس نے یونین کونسل سے رابط کیا تو معلوم ہوا کہ اس نے نکاح نامہ رجسٹرد ہی نہیں کرایا، سائلہ کے والدین اور بھائیوں نے جو اس سے پوچھا تو اس نے انہیں مختلف تھانوں میں کیسوں میں الجھا دیا۔ درخواست گزارکا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر نے اسے دھوکہ دے کر شادی کی اور اب نکاح بھی رجسٹرڈ نہیں کرایا اور اب اس کے باپ کو بھی غائب کردیا ہے جبکہ بھائیوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کردیا ہے لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے تھانہ ساندہ پولیس اپنے پیٹی بھائی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کررہی۔ عدالت نے تھانہ ساندہ سے رپورٹ طلب کی لیکن رپورٹ پیش نہ کرنے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔  

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا