نئی نسل کا قد بڑھنے میں رکاوٹ ....رپورٹ میںسنسنی خیز انکشافا ت
لاہور (خصوصی نامہ نگار) صوبائی دارالحکومت میں پینے کے صاف پانی کی مقدار زیر زمین مزید نیچے گر گئی ،واسا کے 6 سو فٹ تک ٹیوب ویلوں میں آنے والے پانی میں آرسینک کی وجوہات فیکٹریوں سے نکلنے والے زہریلے پانی کو قرار دے دیا گیا ،ماحولیات اور انڈسٹری فیکٹریوں کے زہریلے پانی اخراج پر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگوانے میں ناکامی پر لاکھوں شہریوں کو بنیادی سہولت پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ۔تفصیلات کے مطابق واسا کے زیر زمین ذخائر پینے کے صاف پانی کی سطح مزید گر رہی ہے جہاں سال 2005 ءتک لگنے والے ٹیوب ویلوں میں آرسینک سمیت گندا لوہا اور اس سے قبل لگنے والے ٹیوب ویلوں میں گٹروں کا گندا پانی شامل ہو کر شہریوں کو موذی امراض میں مبتلا کر رہا ہے ،گٹروں اورزنگ آلودہ پانی کی دستیابی پر جہاں پولیو اور دیگر اامراض پیدا ہو رہے تھے انہیں وقتی طور پر ویکسئنیشن کرتے ہوئے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ گندے پانی کی دستیابی پر نئی نسل میں جسمانی کمزوری کے ساتھ قد کی رکاوٹ اور بالوں میں سفیدی کے ساتھ مردانہ کمزوری کی شکایات بڑھ رہی ہیں ،طبی ماہرین کے مطابق پینے کے پانی میں خرابی سے جہاں ہڈیوں کی کمزوری ،یرقان جیسے امراض پیدا ہوتے ہیں وہاں اس سے قد بڑھنے میں رکاوٹ بن کر نئی نسل کیلئے جلد بالوں کی کمزوری بھی سامنے آرہی ہے ،محکمہ ماحولیات کے مطابق واسا کی ریسرچ اور نئے منصوبوں میں محکمہ ماحولیات کا این او سی لینا ضروری ہوتا ہے جس کیلئے واسا کو کئی علاقوں میں زیر زمین پینے کا پانی مزید نیچے جا کر تلاش کرنا پڑ رہا ہے جہاں پہلے 6 سو فٹ تک پینے کا پانی دستیاب ہوتا تھا اب واسا 8 سو فٹ تک نیچے پانی نکال رہے ہیں اور آئندہ 10 سالوں میں پینے کا پانی مزید نیچے چلا جائے گا محکمہ ماحولیات اور انڈسٹری کی عدم توجہی کے باعث زیر زمین پینے کے صاف پانی میں زہر اور مزید بیماریوں کی وجوہات شہر میں چلنے والی فیکٹریوں سے نکلنے والی گندگی اور کیمیکل کی ٹریٹمنٹ نہ ہونے سے پانی زیر مین جارہا ہے اور ٹیوب ویلوں سے مل کر شہریوں کو اس کی دستیابی ہے محکمہ ماحولیات کے مطابق شہر کے بیشتر واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی صاف پانی کی فراہمی میں مسائل پیدا کر رہے ہیں واٹر فلٹریشن پلانٹوں کی صفائی نہ ہونے سے بھی شہری بیماریوں کا شکار ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ واسا زیر زمین صاف پانی کی فراہمی میں شدید کوتاہی کا شکار ہے کیونکہ سیوریج سسٹم کی خرابی اور گندے نالوں پر لگے ٹربائن بھی سیوریج کا گندا پانی ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزارے بغیر دریاﺅں میں پھینک رہے ہیں جس کے باعث دریا اور نہروں میں پھینک رہے ہیں جس کے باعث بھی گندا پانی زیرزمین جا کر پینے کیلئے استعمال ہونے والے پانی میں شامل ہورہا اور شہریوں کو بیماریوں کے خدشات میں اضافہ بڑھتا جارہا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا